بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جو کچھ ان دنوں آبنائے باب المندب میں رونما ہو رہا ہے، یہ یمن میں محض ایک میدانی تبدیلی نہیں ہے؛ بلکہ جنگ جغرافیہ اس وعدے کا جواب دے رہی ہے جس میں مہینوں پہلے ان محاذوں کھولنے کی بات کی گئی تھی جہاں دشمن زیادہ کمزور اور زد پذیر ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
اس دوران، شام کے تزویراتی انتظام کی سطح پر تبدیلیاں بھی قابل غور ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریثری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی کی اس ادارے کے سیکریٹریٹ میں موجودگی کو محض ایک انتظامی تبدیلی کے طور نہیں دیکھا جا سکتا؛ بلکہ جو کچھ آبنائے باب المندب کے میدان میں رونما ہو رہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ ایسے مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں علاقائی صلاحیتوں اور متعدد محاذوں کے انتظام کے درمیان ہم آہنگی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اگر کسی زمانے میں ہرمز کی بندش ایک اسٹراٹیجک ہتھیار سمجھی جاتی تھی، آج آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب ـ دونوں تنگ آبی راستوں پر ـ بیک وقت دباؤ عالمی توانائی کی حفاظت اور عالمی تجارت کے فارمولوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔
شاید اسی لئے ان دنوں "شمیم رحمان از یمن می آید (رحمان کی خوشبو یمن سے آ رہی ہے)" کی صدا، ایک ترانے سے بڑھ کر نئے معانی اختیار کر لیتی ہے؛ ایسی صدا جو بحیرہ احمر کے ساحل سے سنائی دے رہی ہے اور ایک واضح پیغام کی حامل ہے: جن محاذوں کے بارے میں بات کی گئی تھی، وہ محض کاغذ پر لکھے گئے الفاظ یا بنائے گئے خاکے کی شکل میں موجود نہیں تھے۔ وہ وعدہ کسی مخصوص آپریشن کا وعدہ نہیں تھا؛ وہ قاعدے کی تبدیلی کا وعدہ تھا: "سچا وعدہ"؛ چنانچہ آج باب المندب ہرمز کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ اب محض اپنی ابتدا کی جغرافیائی حدود میں تک محدود نہیں رہی ہے۔
نتیجہ واضح ہے: اگر یمن کی میدانی پیش رفت مستحکم ہو جائے تو باب المندب میں جو کچھ رونما ہؤا اسے ایک وقتی اور عارضی واقعہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ "محور مقاومت" (محاذ مزاحمت) کے "جغرافیائی قوت سازی" کے ایک نئے مرحلے میں داخلے کی علامت و اعلان سمجھنا چاہئے؛ ایسا مرحلہ جس میں 'اسٹراٹیجک وعدے اور میدانی حقیقت کے درمیان فاصلہ' ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ۔ کم ہو گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: یاسر زندی
ترجمہ: ام فروی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ